Teachers' Day 2015

اساتذہ کو کسی بھی تعلیمی نظام میں مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ یہ استاد ہی ہیں جو ہمارے بچوں کو علم کی دولت سے مالامال کرتے ہیں، اور کمرہ جماعت سے باہر کی دنیا تک کے سفر میں ان کے رہنما کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اساتذہ آج جن بچوں کو زبان دانی اور ریاضی کی بنیادی باتیں پڑھا رہے ہیں کل ان میں سے کوئی ملک کا وزیراعظم بنے گا تو کوئی رکن پارلیمنٹ اور کوئی آرمی چیف۔ یہ ہمارے اساتذہ ہی ہیں جو ہمارے مستقبل کے مسجد امام صاحبان، کل کے پولیس افسروں و اہلکاروں اور مستقبل کے ڈاکٹروں کو پڑھاتے ہیں۔ انہی سے رہنمائی حاصل کر کے کوئی کل کا صادقین بنے گا تو کوئی عبدالسلام اور کوئی بابا بلھے شاہ۔ یہ اساتذہ ہی ہیں جو کسی ایسے ذہین پاکستانی طالب علم کے سامنے سائنسی تجربات کر کے دکھائیں گے جو ان سے سیکھ کر کینسر کا علاج دریافت کرے گا۔

طلبہ کی ان صلاحیتوں کو عملی شکل دینے میں استاد کس قدر موثر ہیں اس کا انحصار کئی عوامل پر ہوتا ہے۔ جماعت کے وہ کمرے جہاں اساتذہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا سب سے زیادہ وقت گزارتے ہیں ہے انہیں آپ کام کرنے کے لئے ایک مثالی جگہ قرار نہیں دے سکتے۔ بچوں سے کھچاکھچ بھرے جماعت کے کمرے اور ایک سے زیادہ کلاسز کو پڑھانے کی ذمہ داریاں مسائل کے اس اژدہام کی چھوٹی سی مثالیں ہیں۔ "اساتذہ کو ٹھیک کرنے کے لئے" بیشتر صوبائی حکومتوں اور تعلیم کے محکموں کا زور انہیں ایک جائز فریق کے طور پر ساتھ ملانے کے بجائے سزاؤں اور جابرانہ اقدامات پر ہے۔ پالیسیاں ان ہزاروں اساتذہ کے لئے نہیں بنائی جاتیں جو پوری دلجمعی سے اپنا کام کرنے کی کوشش میں لگے ہیں بلکہ اساتذہ کی اس اقلیت کے لئے بنائی جاتی ہیں جو اپنے کام میں کوتاہی کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ اساتذہ کی بڑی اکثریت ایسی ہے جن سے نصاب کی تشکیل میں کوئی رائے نہیں لی جاتی، انہیں پتہ ہی نہیں ہے کہ درجہ بندی کیسے ہوتی ہے، یا انہوں نے تجزیہ یا نصابی کتب کے استعمال جیسے بنیادی شعبوں میں کوئی تربیت حاصل نہیں کی۔

ان تمام عوامل کے نتیجے میں کمرہ جماعت میں جو طریقے اپنائے جاتے ہیں وہ کچھ اتنے قابل رشک نہیں ہوتے۔ گزشتہ سال جاری کئے گئے الف اعلان کے سروے "اساتذہ کی آواز" میں بعض اہم باتیں سامنے آئیں۔

70 فیصد سے زیادہ اساتذہ آج بھی سمجھتے ہیں کہ بچوں کو سزا دینا ان میں نظم وضبط پیدا کرنے کا موثر طریقہ ہے۔

مجموعی طور پر 57 فیصد سرکاری اساتذہ کے مطابق انہوں نے گزشتہ پانچ سال میں کوئی تربیت حاصل کی۔ زیادہ تر اساتذہ (خاص طورپر خیبرپختونخواہ اور پنجاب میں) کا کہنا ہے کہ اس تربیت کا کمرہ جماعت کے حقائق کے ساتھ کوئی خاص تعلق نہیں ہوتا جبکہ 39 فیصد اس تربیت سے مطمئن نہیں جو انہیں ملتی ہے۔

ہمارے سروے کے مطابق صرف 32 فیصد اساتذہ سمجھتے ہیں کہ ان کی کوششوں کو "بڑی حد تک" تسلیم کیا جاتا ہے جبکہ 43 فیصد کا کہنا ہے کہ ان کی محنت کو "برائے نام" تسلیم کیا جاتا ہے یا "بالکل نہیں کیا جاتا"۔

ملک کا مستقبل روشن بنانے کی کسی بھی کوشش کے لئے ضروری ہے کہ ہم اساتذہ کی انتہائی اہم خدمات کی بھرپور انداز میں پذیرائی کریں۔ قائد اعظم اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ ہم "یقین، نظم وضبط اور فرض کے ساتھ بے لوث لگن" کو اپنا لیں تو بحیثیت قوم کوئی قابل قدر چیز ایسی نہیں رہ جاتی جو ہم حاصل نہ کر سکیں۔

آئیے اس یوم اساتذہ پر عہد کریں کہ انشاء اللہ ہم اساتذہ کی راہ میں آنے والی تمام رکاوٹوں کو دور کریں گے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے ایک ایسی قوم کی پرورش کر سکیں جو ہر کام میں ماہر ہو، ایماندار ہو اور ترقی کی راہ پر رواں دواں ہو۔