English / اُردو

ملکیت اور سرمایہ کاری

آج پاکستان میں تعلیم کی صورتحال اور معیار بہتر کرنے پر قومی اور سیاسی اتفاقِ رائے ہے۔ 2013 ء کے عام انتخابات سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں نے تعلیم پر توجہ دینے اور اس کے لیے مناسب وسائل مختص کرنے کے وعدے کیے۔ ہمارے حکمرانوں نے تعلیمی بحران کی سنگینی کو تسلیم کیا اور تعلیمی نظام میں اصلاحات لانے کے وعدے کیے۔ اگلا قدم ہمارے حکمرانوں کے لیے یہ ہونا چاہیے کہ وہ تعلیم کو اپنی ترجیح بنائیں اور مل کر تعلیم کے لیے مناسب وسائل فراہم کرنے کے لیے کام کریں۔ تعلیم کے لیے جی ڈی پی کا کم از کم 4 فیصد مختص کیا جائے تاکہ ان وعدوں کو عمل میں تبدیل کیا جا سکے۔

انتخابی منشور کے وعدے


دیکھیں | ڈاون لوڈ

جی ڈی پی


دیکھیں | ڈاون لوڈ

ہمارے حکمرانوں کا کیا کہنا ہے

علم ہر مرض کا علاج ہے ۔تعلیم کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا اور نہ ہی اچھا طرزِ حکومت برقرار رکھا جا سکتا ہے۔“

”اگر ہم نے تعلیم کو اپنی اولین ترجیح نہ بنایا تو پاکستان کا کوئی مستقبل نہیں۔“

”معاشرے سے انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے تعلیم بہترین ہتھیار ہے۔ قومی اہداف کے حصول کے لیے تعلیمی شعبے میں انقلاب لانے کی بھر پور کوشش کروں گا۔“

”تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرنا چاہیے۔حکومت کو چاہئیے کہ اپوزیشن کی طرف سے تعلیم کے شعبے میں مسائل کی نشاندہی کو فقط تنقید کے بجائے حقیقی تشویش کا اظہار سمجھے۔“

”سندھ کی تمام سیاسی جماعتیں اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھتی ہیں اور اس کو فوری طور پر حل کرنے کے لیے تیار ہیں۔“

”ہمیں تعلیم کے لیے اپنے سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈالنا ہو گا۔“

”معیاری اور فنی تعلیم میں سرمایہ کاری کیے بغیر ترقی ممکن نہیں۔“

”میں یہ دیکھنا چاہتی ہوں کہ تعلیم کے لیے کام کرنے کو خیرات کے دائرے سے نکالا جائے، یہ ایک سماجی مسئلہ ہے اور بنیادی انسانی حق ہے۔ تعلیم فراہم کرنا حکومت کا اولین فرض ہونا چاہیے۔“

”سندھ حکومت تعلیم پر بہت پیسہ خرچ کر رہی ہے لیکن ہمیں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی“

”تعلیم کے شعبہ میں زیادہ سے زیادہ وسائل کی فراہمی ہی وہ راستہ ہے جس سے افرادی قوت کے ساتھ ساتھ پوری قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔“