English / اُردو

تعلیم کے بحران کا مقابلہ کرنے کے تین اقدامات

پاکستان تعلیمی بحران سے گزر رہا ہے۔ ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور جو اسکول جاتے ہیں وہ معیاری تعلیم حاصل نہیں کر پاتے۔جو بچے پہلی جماعت میں داخل ہوتے ہیں ان میں سے 75 فیصد تعلیم مکمل کیے بغیر اسکول چھوڑ جاتے ہیں۔ اسکولوں کی حالت بہت بری ہے۔ اسکولوں کی عمارتیں شکستہ ہیں۔ بنیادی سہولیات کا فقدان ہے اور ہزاروں اسکول یا تو غیر فعال ہیں یا پھر صرف کاغذات پر موجود ہیں۔ اساتذہ پر تدریس کا بوجھ زیادہ ہے، ان میں تدریسی تربیت کی کمی ہے اور اساتذہ کی غیر حاضری عام ہے۔ یہ ایسے کچھ مسائل ہیں جنہیں ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔

ان مسائل کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے امید کا دامن چھوڑنا آسان ہے۔ یہ مسئلہ سنگین ضرور ہے لیکن ایسا نہیں کہ حل نہ کیا جا سکے۔ ان مسائل کے حل موجود ہیں۔ تبدیلی کا سفر مشکل اور آہستہ ہو گا لیکن نا ممکن نہیں۔ ان تین آسان اقدامات سے ہمارے حکمران پاکستان کے تعلیمی بحران کو حل کرنے کی طرف سفرشروع کر سکتے ہیں۔

ریڈیو اشتہارات

ہمارے حکمرانوں کا تعلیم کے بارے میں کیا کہنا ہے۔

ذرائع:
وزیر اعظم نواز شریف: اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب( 26 ستمبر2014 ء)، وزیر اعظم کا یوتھ پالیسی کی تقریب سے خطاب 21 ستمبر 2013ء
عمران خان: ٹی وی انٹرویو 9 جنوری2015ء
بلاول بھٹو زرداری: ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر خطاب 4 اپریل 2014ء
الطاف حسین: ایم کیو ایم کے یومِ تاسیس کے موقع پر خطاب

Donate Volunteer Find an Event